(۱۲۷۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِی أَہْلِی حِینَ تَمَتَّعَ النَّہَارُ إِذْ أَتَی رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : أَجِبْ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَانْطَلَقَتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَیْہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی مُحَاوَرَۃِ عَلِیٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا أُحَدِّثَکُمْ عَنْ ہَذَا الأَمْرِ إِنَّ اللَّہَ خَصَّ رَسُولَہُ بِشَیْئٍ مِنْ ہَذَا الْفَیْئِ لَمْ یُعْطِہِ أَحَدًا غَیْرَہُ ثُمَّ قَرَأَ {مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ} حَتَّی بَلَغَ {وَاللَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ} فَکَانَتْ ہَذِہ خَاصَّۃً لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا احْتَازَہَا دُونَکُمْ وَلاَ اسْتَأْثَرَ بِہَا عَلَیْکُمْ وَلَکِنْ أَعْطَاکُمُوہَا وَبَثَّہَا فِیکُمْ حَتَّی بَقِیَ مِنْہَا ہَذَا الْمَالُ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُنْفِقُ مِنْہَا عَلَی أَہْلِہِ سَنَتَہُمْ مِنْ ہَذَا ثُمَّ یَأْخُذُ مَا بَقِیَ َیَجْعَلُہُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّہِ فَعَمِلَ بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَیَاتَہُ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ ثُمَّ قَالَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسٍ نَحْوَ ہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَوْسٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ فِیمَا یَحْتَجُّ بِہِ : کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثَۃُ صَفَایَا بَنُو النَّضِیرِ وَخَیْبَرُ وَفَدَکُ فَأَمَّا بَنُو النَّضِیرِ فَکَانَتْ حَبْسًا لِنَوَائِبِہِ وَأَمَّا فَدَکُ فَکَانَتْ لاِبْنِ السَّبِیلِ وَأَمَّا خَیْبَرُ فَجَزَّأَہَا ثَلاَثَۃَ أَجْزَائٍ فَقَسَمَ مِنْہَا جُزْئَیْنِ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَحَبَسَ جُزْئً ا لِنَفْسِہِ وَنَفَقَۃِ أَہْلِہِ فَمَا فَضَلَ عَنْ نَفَقَۃِ أَہْلِہِ رَدَّہُ عَلَی فُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ۔ [ضعیف]
(١٢٧٢٥) مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں : میں دن کے وقت اپنے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کا نمائندہ آیا، اس نے کہا : امیرالمومنین آپ کو بلا رہے ہیں، میں اس کے ساتھ گیا، حتیٰ کہ میں آپ پر داخل ہوا۔ پھر حضرت علی اور عباس (رض) والے مکالمے کی لمبی حدیث ذکر کی۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : میں تم کو اس بارے میں بیان کرتا ہوں، اللہ نے اپنے رسول کو فئی میں سے کچھ حصے کے ساتھ خاص کیا ہے، آپ کے علاوہ کسی اور کو وہ نہیں دیا، پھر یہ آیت پڑھی : { مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ } پس یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خاص تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے علاوہ کسی کو اس کے لیے خاص نہ کیا اور نہ تم پر کسی کو ترجیح دی اور لیکن آپ نے وہ تم کو دے دیا اور اس میں تم کو شامل کرلیا حتیٰ کہ اس سے یہ مال بچ گیا، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے سال تک اور باقی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے مال میں شامل کردیتے تھے، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں ایسا ہی کیا۔
مالک بن اوس سے دوسری روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کہا، جس سے انھوں نے دلیل لی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تین چیزیں خاص تھیں : بنو نضیر، خیبر اور فدک۔ پس بنو نضیر کو حوادث کے لیے روکا تھا اور فدک مسافروں کے لیے تھا اور خیبر کو آپ نے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا، دو حصے مسلمانوں کے لیے اور ایک اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے اور جو گھر والوں کے خرچہ سے بچ جاتا اسے مہاجرین فقراء کی طرف لوٹا دیتے تھے۔