(۱۲۹۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا خُثَیْمُ بْنُ عِرَاکٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ نَفَرٍ مِنْ بَنِی غِفَارٍ قَالُوا : إِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ وَقَدْ خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی خَیْبَرَ وَاسْتَخْلَفَ عَلَی الْمَدِینَۃِ رَجُلاً مِنْ بَنِی غِفَارٍ یُقَالُ لَہُ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَۃَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَوَجَدْنَاہُ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ صَلاَتِنَا أَتَیْنَا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَۃَ فَزَوَّدَنَا تَمْرًا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ فَتَحَ خَیْبَرَ وَکَلَّمَ الْمُسْلِمِینَ فَأَشْرَکُونَا فِی سُہْمَانِہِمْ۔وَرَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ خُثَیْمِ بْنِ عِرَاکٍ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ قَالَ : فَاسْتَأَذَنَ النَّاسَ أَنْ یَقْسِمَ لَنَا مِنَ الْغَنَائِمِ فَأَذِنُوا لَہُ فَقَسَمَ لَنَا۔ [ضعیف]
(١٢٩٢٣) حضرت ابوہریرہ (رض) مدینہ میں آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کی طرف چلے گئے اور بنی غفار کا آدمی مدینہ پر نائب مقرر تھا۔ اسے سباغ بن عرفطہ کہا جاتا تھا، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : ہم نے اسے صبح کی نماز کے وقت پایا۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم اس کے پاس آئے، اس نے کھجوروں سے ہماری ضیافت کی۔ یہاں تک کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور خیبر فتح ہوچکا تھا اور مسلمانوں نے بات کی۔ پس انھوں نے ہمیں اپنے حصوں میں شریک کیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے اجازت طلب کی کہ ہمیں بھی غنیمت سے دیا جائے، انھوں نے اجازت دے دی، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بھی دیا۔