(۱۳۱۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّہُ قَالَ : شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَبَنًا فَأَعْجَبَہُ فَسَأَلَ الَّذِی سَقَاہُ مِنْ أَیْنَ لَکَ ہَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ وَرَدَ عَلَی مَائٍ قَدْ سَمَّاہُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ وَہُمْ یَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِی أَلْبَانَہَا فَجَعَلْتُہُ فِی سِقَائِی ہَذَا فَأَدْخَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِصْبَعَہُ وَاسْتَقَائَ ہُ۔ [ضعیف۔ المؤطا ۶۰۶]
(١٣١٦٤) حضرت زید بن اسلم (رح) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے دودھ پیا تو اس (دودھ) نے انھیں حیرت میں ڈال دیا۔ انھوں نے دودھ پلانے والے سے پوچھا : ” تجھے یہ دودھ کہاں سے ملا ؟ اس نے بتلایا کہ وہ پانی کے گھاٹ پر گیا، اس نے اس گھاٹ کا نام بتلایا تو وہاں صدقے کی بکریاں تھیں، جنہیں وہ پانی پلا رہے تھے، انھوں نے میرے لیے ان کا دودھ دھویا تو میں نے اس برتن میں ڈال لیا۔ سیدنا عمر (رض) نے اپنی انگلی داخل کر کے قے کردی۔