(۱۳۲۸۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ فَذَکَرَ قِصَّۃَ أُحُدٍ وَإِشَارَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی الْمُسْلِمِینَ بِالْمُکْثِ فِی الْمَدِینَۃِ وَأَنَّ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ أَبَوْا إِلاَّ الْخُرُوجَ إِلَی الْعَدُوِّ قَالَ وَلَوْ تَنَاہَوْا إِلَی قَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمْرِہِ کَانَ خَیْرًا لَہُمْ وَلَکِنْ غَلَبَ الْقَضَائُ وَالْقَدَرُ قَالَ وَعَامَّۃُ مَنْ أَشَارَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوجِ رِجَالٌ لَمْ یَشْہَدُوا بَدْرًا وَقَدْ عَلِمُوا الَّذِی سَبَقَ لأَہْلِ بَدْرٍ مِنَ الْفَضِیلَۃِ
فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْجُمُعَۃِ وَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَہُمْ وَأَمَرَہُمْ بِالْجِدِّ وَالاِجْتِہَادِ ثُمَّ انْصَرَفَ مِنْ خُطْبَتِہِ وَصَلاَتِہِ فَدَعَا بِلأْمَتِہِ فَلَبِسَہَا ثُمَّ أَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالْخُرُوجِ فَلَمَّا أَبْصَرَ ذَلِکَ رِجَالٌ مِنْ ذَوِی الرَّأْیِ قَالُوا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نَمْکُثَ بِالْمَدِینَۃِ فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْنَا الْعَدُوُّ قَاتَلْنَاہُمْ فِی الأَزِقَّۃِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِاللَّہِ وَبِمَا یُرِیدُ وَیَأْتِیہِ الْوَحْیُ مِنَ السَّمَائِ ثُمَّ أَشْخَصْنَاہُ فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَنَمْکُثُ کَمَا أَمَرْتَنَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَنْبَغِی لِنَبِیٍّ إِذَا أَخَذَ لأْمَۃَ الْحَرْبِ وَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالْخُرُوجِ إِلَی الْعَدُوِّ أَنْ یَرْجِعَ حَتَّی یُقَاتِلَ وَقَدْ دَعَوْتُکُمْ إِلَی ہَذَا الْحَدِیثِ فَأَبَیْتُمْ إِلاَّ الْخُرُوجَ فَعَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللَّہِ وَالصَّبْرِ إِذَا لَقِیتُمُ الْعَدُوَّ وَانْظُرُوا مَا أَمَرْتُکُمْ بِہِ فَافْعَلُوہُ ۔ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالْمُسْلِمُونَ مَعَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ وَہَکَذَا رَوَاہُ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔وَکَذَلِکَ ذَکَرَہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ شُیُوخِہِ مِنْ أَہْلِ الْمَغَازِی وَہُوَ عَامٌّ فِی أَہْلِ الْمَغَازِی وَإِنْ کَانَ مُنْقَطِعًا۔ [ضعیف]
(١٣٢٨١) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو لوگوں کو وعظ کیا اور ان کو محنت اور کوشش کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب آپ اپنی نماز اور خطبے سے واپس پلٹے تو آپ نے ذرع منگوائی اور اس کو پہن لیا۔ پھر لوگوں میں اعلان کروایا کہ وہ جنگ کے لیے نکلیں۔ جب ان لوگوں نے دیکھا جن کے دلوں میں بیماری تھی، تو کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ ہم مدینہ میں ٹھہریں۔ اگر مدینے میں دشمن داخل ہوگئے تو ہم ان کا مقابلہ کریں گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا تھا جو وہ ارادہ رکھتے تھے۔ پھر آسمان سے وحی آئی۔ پھر ہم نے اسے روانگی کا وقت سمجھا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم ٹھہرے رہیں، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم دیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ جب وہ لڑائی کا سامان پکڑ لے اور لوگوں کو دشمن کی طرف نکلنے کا حکم دے تو وہ واپس آئے حتی کہ وہ قتل ہوجائے۔ میں تم کو اس کی طرف بلاتا ہوں اور تم نکلنے سے انکار کرتے ہو پھر فرمایا : تقویٰ اور صبر کو لازم پکڑو جب تم دشمن سے ملو تو دیکھو، میں تم کو کیا حکم دیتا ہوں، اس کام کو کر گزرو۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نکلے اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے۔