(۱۳۲۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّی وَارَی التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِہِ وَکَانَ رَجُلاً کَثِیرَ الشَّعَرِ وَہُوَ یَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَوَاحَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ
اللَّہُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا
إِنَّ الأَعْدَائَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
یَرْفَعُ بِہَا صَوْتَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔
وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ وَقَالَ شُعْبَۃُ فِی رِوَایَتِہِ : وَقَدْ وَارَی التُّرَابُ بَیَاضَ بَطْنِہِ وَہُوَ یَقُولُ وَقَالَ إِنَّ الأُلَی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْقُلُ التُّرَابَ مَعَنَا یَوْمَ الأَحْزَابِ ثُمَّ ذَکَرَہُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ۔
(١٣٢٩٣) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خندق والے دن دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مٹی پھینک رہے تھے اور مٹی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینے کے بالوں میں چھپ رہی تھی، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینے کے بال بہت زیادہ تھے اور آپ عبداللہ بن رواحہ (رض) کے رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے۔
اللَّہُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا
وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا
وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا
إِنَّ الأَعْدَائَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا
وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
ترجمہ : اے اللہ ! اگر آپ نہ ہوتے تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۔
ہم پر سکینہ نازل فرما اور جنگ کے وقت ہمارے قدموں کو ثابت قدم رکھ۔
دشمنوں نے ہم سے بغاوت کی ہے اگر وہ فتنہ چاہتے ہیں تو ہمیں انکار ہے۔
ان کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے۔ [صحیح۔ بخاری ٢٨٧٣۔ مسلم ١٠٨٣]