(۱۳۷۴۵) وَقَدْ رُوِیَ مِنْ حَدِیثٍ ضَعِیفٍ أَنَّہُ أَمْہَرَہَا أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیرِیُّ قَالَ حَدَّثَتْنَا عُلَیْلَۃُ یَعْنِی بِنْتَ الْکُمَیْتِ الْعَتَکِیَّۃَ عَنْ أُمِّہَا أُمَیْمَۃَ عَنْ أَمَۃِ اللَّہِ بِنْتِ رُزَیْنَۃَ عَنْ أُمِّہَا رُزَیْنَۃَ قَالَتْ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ قُرَیْظَۃَ وَالنَّضِیرِ جَائَ بِصَفِیَّۃَ یَقُودُہَا سَبِیَّۃً حَتَّی فَتْحَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَذِرَاعُہَا فِی یَدِہِ فَلَمَّا رَأَتِ النَّبِیَ قَالَتْ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ فَأَرْسَلَ ذِرَاعَہَا مِنْ یَدِہِ فَأَعْتَقَہَا وَخَطَبَہَا وَتَزَوَّجَہَا وَأَمْہَرَہَا رُزَیْنَۃَ۔ [ضعیف جداً]
(١٣٧٤٥) امۃ اللہ بنت رزینہ اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ جب بنو قریظہ اور نضیر کا دن تھا وہ صفیہ کو قیدی بنا کر لائے۔ جب اللہ نے آپ کو فتح عطا فرمائی تو اس وقت بھی وہ قیدی تھی (لونڈی تھی) ۔ جب صفیہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو کہنے لگیں : میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چھوڑ کر آزاد کردیا اور شادی کا پیغام دے کر نکاح کرلیا اور اس کا حق مہر رزینہ نے ادا کیا تھا۔