(۱۳۸۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ مِقْسَمٍ وَہُوَ ابْنُ ضَبَّۃَ قَالَ حَدَّثَتْنِی عَمَّتِی سَارَۃُ بِنْتُ مِقْسَمٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ وَہُوَ عَلَی نَاقَۃٍ لَہُ وَأَنَا مَعَ أَبِی وَبِیَدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- دِرَّۃٌ کَدِرَّۃِ الْکُتَّابِ فَسَمِعْتُ الأَعْرَابَ وَالنَّاسَ یَقُولُونَ الطَّبْطَبِیَّۃَ الطَّبْطَبِیَّۃَ فَدَنَا مِنْہُ أَبِی فَأَخَذَ بِقَدَمِہِ وَأَقَرَّ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ فَمَا نَسِیتُ طُولَ إِصْبَعَ قَدَمِہِ السَّبَّابَۃِ عَلَی سَائِرِ أَصَابِعِہِ قَالَ فَقَالَ لَہُ : إِنِّی شَہِدْتُ جَیْشَ عُثْرَانَ قَالَتْ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ذَلِکَ الْجَیْشَ ۔ فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمَرَقَّعِ مَنْ یُعْطِینِی رُمْحًا بِثَوَابِہِ قَالَ فَقُلْتُ وَمَا ثَوَابُہُ؟ قَالَ : أُزَوِّجُہُ أَوَّلَ ابْنَۃٍ تَکُونُ لِی ۔ قَالَ : فَأَعْطَیْتُہُ رُمْحِی ثُمَّ تَرَکْتُہُ حَتَّی وُلِدَ لَہُ ابْنَۃٌ وَبَلَغَتْ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ لَہُ : جَہِّزْ إِلَیَّ أَہْلِیَ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ لاَ أُجَہِّزُہَا حَتَّی تُحْدِثَ صَدَاقَ غَیْرِ ذَلِکَ فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ أَفْعَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَبِقَرْنِ أَیِّ النِّسَائِ ہِیَ ۔ قُلْتُ : قَدْ رَأَتِ الْقَتِیرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ : دَعْہَا لاَ خَیْرَ لَکَ فِیہَا ۔ قَالَ : فَرَاعَنِی ذَلِکَ وَنَظَرَ إِلَیَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَأْثَمُ وَلاَ یَأْثَمُ ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [ضعیف]
(١٣٨٢٤) حضرت میمونہ بنت کردم فرماتی ہیں میں اپنے والد کے ساتھ تھی کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ میں اپنی اونٹنی پر سوار دیکھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کتاب کے مکتب کی طرح کچھ تھا۔ میں نے دیہاتیوں اور لوگوں کو سنا وہ کہہ رہے تھے قدموں کی چاپ، قدموں کی چاپ۔ میرے والد نے قریب ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نشانات قدم پر چلنا شروع کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٹھہر گئے۔ میمونہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کی سبابہ انگلی جو پاؤں کی تمام انگلیوں سے زیادہ لمبی تھی۔ اس کو نہ بھولی۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں جیش عشران میں تھا۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس لشکر کو پہچانتے تھے تو طارق بن مرقع نے کہا : کون مجھے اچھے بدلے کے عوض نیزہ دے گا۔ میں نے کہا : اس کا بدلہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا : جو میری پہلی بیٹی ہوگی اس کا نکاح دے دوں گا۔ کردم کہتے ہیں : میں نے اس کو اپنا نیزہ دے دیا، اس کے ہاں بیٹی پیدا ہو کر بالغ ہوگئی۔ میں نے آکر کہہ دیا کہ میری گھر والی کو میرے لیے تیار کرو تو طارق کہنے لگے : اس کے علاوہ حق مہر دو تو تیار کردیتا ہوں وگرنہ اللہ کی قسم ! ایسا نہ کروں گا۔ میں نے بھی قسم اٹھا کر کہا ایسا نہ کروں گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ عورتوں میں سے کس کے مماثل ہے۔ میں نے کہا : اس نے بڑھاپے کی ابتدا کو دیکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ آپ کے لیے اس میں بھلائی نہیں ہے، کہتے ہیں : اس نے مجھے ڈرایا اور میری طرف دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ آپ گناہ گار ہوں گے اور نہ وہ۔