(۱۳۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّیِّبِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشُّعَیْرِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمِشُ بْنُ عِصَامٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ الْخَیْوَانِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ: کُنْتُ أُرَی أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَیْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاہِرِہِمَا حَتَّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی ظَہْرِ قَدَمَیْہِ عَلَی خُفَّیْہِ۔
وَفِی کُلِّ ہَذِہِ الرِّوَایَاتِ الْمُقَیَّدَاتِ بِالْخُفَّیْنِ دَلاَلَۃٌ عَلَی اخْتِصَارٍ وَقَعَ فِیمَا۔ [صحیح]
(١٣٨٩) سیدنا علی بن أبی طالب (رض) سے روایت ہے کہ میرا خیال ہے قدموں کا اندرونی (یعنی نچلا) حصہ ظاہری حصے سے مسح کا زیادہ مستحق ہے ، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور اپنے موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا۔ (ب) موزوں والی روایات یہ تمام اس کے مختصر ہونے کی دلیل ہیں۔