(۱۳۸۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَلَہَا ابْنَۃٌ مِنْ غَیْرِہِ وَلَہُ ابْنٌ مِنْ غَیْرِہَا فَفَجَرَ الْغُلاَمُ بِالْجَارِیَۃِ فَظَہَرَ بِہَا حَبَلٌ فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَکَّۃَ رُفِعَ ذَلِکَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہُمَا فَاعْتَرَفَا فَجَلَدَہُمَا عُمَرُ الْحَدَّ وَحَرَصَ أَنْ یَجْمَعَ بَیْنَہُمَا فَأَبَی الْغُلاَمُ۔ [صحیح]
(١٣٨٧٥) عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی۔ اس کی بیٹی دوسرے خاوند سے تھی۔ اس مرد کا بیٹا کسی دوسری بیوی سے تھا، بچے نے بچی سے زنا کرلیا تو حمل ظاہر ہوگیا۔ جب حضرت عمر (رض) مکہ آئے تو ان کے سامنے معاملہ پیش ہوا۔ جب ان دونوں سے پوچھا گیا تو دونوں نے اعتراف کرلیا تو حضرت عمر (رض) نے دونوں کو حد لگائی اور حضرت عمر (رض) کی تمنا تھی کہ دونوں کو جمع کردیا جائے۔ لیکن بچے نے انکار کردیا۔