hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13887

.

سنن البيهقي

13887
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۸۸۱) فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ إِلَی عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ فَقَالَ : أَلاَ تَعْجَبُ إِنَّ الْحَسَنَ یَقُولُ : إِنَّ الزَّانِیَ الْمَجْلُودَ لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ مَجْلُودَۃً مِثْلَہُ فَقَالَ عَمْرٌو وَمَا یُعْجِبُکَ حَدَّثَنَاہُ سَعِیدٌ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُنَادِی بِہَا نِدَائً فَہَکَذَا رَوَاہُ عَمْرٌو وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ فِی سَبَبِ نُزُولِ الآیَۃِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِکَاحِ تِلْکَ الْبَغَایَا وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ الْمَنَعَ وَقَعَ عَنْ نِکَاحِہِنَّ إِمَّا لِشِرْکِہِنَّ وَإِمَّا لِشَرْطِہِنَّ إِرْسَالَہُنَّ لِلزِّنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٣٨٨١) حبیب معلم فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ سے ایک شخص حضرت عمرو بن شعیب کے پاس آیا اور کہنے لگا : حضرت حسن کہتے ہیں : جس زانی کو حد لگائی گئی ہو وہ حد لگائی گئی زانیہ عورت سے ہی نکاح کرتا ہے تو عمرو کہنے لگے : آپ کو تعجب کس چیز کا ہے۔
(ب) اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اس طرح منادی کروایا کرتے تھے۔
(ج) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ زانیہ عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا۔
(د) حضرت عبداللہ بن عمرو سے دوسری سند سے منقول ہے کہ نکاح کی ممانعت ان کے شرک یا زنا کی چھٹی دینے کی وجہ سے تھا۔