(۱۳۸۸۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَعُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ رَجُلٌ زَنَی بِامْرَأَۃٍ ثُمَّ تَابَا وَأَصْلَحَا أَلَہُ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا؟ فَتَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ {ثُمَّ إِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِینَ عَمِلُوا السَّوْئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِہَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ} قَالَ فَرَدَّدَہَا عَلَیْہِ مِرَارًا حَتَّی ظَنَّ أَنَّہُ قَدْ رُخِّصَ فِیہَا۔ [ضعیف]
(١٣٨٨٥) علقمہ بن قیس فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک مرد نے عورت سے زنا کرلیا۔ پھر دونوں نے توبہ کر کے اپنی حالت سنوار لی۔ کیا ان دونوں کی شادی ہوسکتی ہے ؟ انھوں نے یہ آیت تلاوت کی : { ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ اَصْلَحُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} (النحل : ١١٩) پھر تیرا رب ان لوگوں کے لیے جو جہالت کی بنا پر برے عمل کرتے ہیں، پھر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کریں تو تیرا رب اس کے بعد بخشنے والا ہے۔ “ انھوں نے بار بار یہ آیت پڑھی یہاں تک کہ اس نے گمان کرلیا کہ اس میں رخصت دی گئی ہے۔