(۱۳۹۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ : کَانَ إِذَا تُوُفِّیَ الرَّجُلُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَمَدَ حَمِیمُ الْمَیِّتِ إِلَی امْرَأَتِہِ فَأَلْقَی عَلَیْہَا ثَوْبًا فَیَرِثُ نِکَاحَہَا فَیَکُونُ ہُوَ أَحَقَّ بِہَا فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُو قَیْسِ بْنُ الأَسْلَتِ عَمَدَ ابْنُہُ قَیْسٌ إِلَی امْرَأَۃِ أَبِیہِ فَتَزَوَّجَہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ فِی قَیْسٍ {وَلاَ تَنْکِحُوا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} قَبْلَ التَّحْرِیمِ حَتَّی ذَکَرَ تَحْرِیمَ الأُمَّہَاتِ وَالْبَنَاتِ حَتَّی ذَکَرَ {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} قَبْلَ التَّحْرِیمِ {إِنَّ اللَّہَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا} فِیمَا مَضَی قَبْلَ التَّحْرِیمِ۔ [ضعیف]
(١٣٩٢٧) مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ جب جاہلیت میں کوئی آدمی فوت ہوجاتا تو میت کے ورثاء اس کی بیوی کا قصد کرتے اور اس پر کپڑا ڈال کر اس کے نکاح کے وارث بن جاتے اور یہ شخص اس کا زیادہ حق دار ہوتا۔ جب ابو قیس بن اسلت فوت ہوئے تو اس کے بیٹے نے اپنے والد کی بیوی کا ارادہ کیا، اس سے نکاح تو کرلیا، لیکن ابھی مجامعت نہ کی تھی، اس بی بی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کیا تو اللہ نے قیس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : { وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ } [النساء ٢٢] ” تم اپنے باپوں کی بیویوں سے نکاح نہ کرو مگر جو ہوچکا۔ “ حرمت سے پہلے پھر ماؤں اور بیٹیوں کی حرمت ذکر کی گئی : { وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ } [النساء ٢٣]” یہ کہ نہ تم جمع کرو دو بہنوں کو مگر جو ہوچکا، حرمت سے قبل۔ “ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ” یقیناً اللہ معاف کرنے والا ہے۔ “ جو حرمت سے پہلے ہوچکا۔