(۱۴۵۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَان أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَعْقُوبَ الإِیَادِیُّ الْمَالِکِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی حُمَیْدٌ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ خَیْبَرَ وَالْمَدِینَۃِ ثَلاَثَ لَیَالٍ یُبْنَی عَلَیْہِ بِصَفِیَّۃَ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِینَ إِلَی وَلِیمَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا کَانَ فِیہَا خُبْزٌ وَلاَ لَحْمٌ وَمَا کَانَ إِلاَّ أَنْ أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ وَأُلْقِیَ عَلَیْہَا التَّمْرُ وَالأَقِطُ وَالسَّمْنُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَی أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ ہِیَ أَوْ مَا مَلَکَتْ یَمِینُہُ قَالُوا : إِنْ حَجَبَہَا فَہِیَ إِحْدَی أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ وَإِنْ لَمْ یَحْجُبْہَا فَہِیَ مِمَّا مَلَکَتْ یَمِینُہُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَہَا خَلْفَہُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ النَّاسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسٍ کَذَلِکَ فِی التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ وَقَالَ : فَحَاسُوا حَیْسًا وَکَذَلِکَ فِی رِوَایَۃِ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَفِی رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ السَّوِیقِ بَدَلَ الأَقِطِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۵]
(١٤٥٠٢) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین راتیں قیام کیا تو حضرت صفیہ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پیش کیا گیا۔ میں نے مسلمانوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ولیمہ کی دعوت دی جس میں روٹی اور گوشت نہ تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم فرمایا اور اس پر کھجور، گھی، پنیر کے ٹکڑے ڈال دیے گئے تو مسلمانوں نے کہا : یہ امہات المومنین سے تھی یا لونڈی تھی۔ کہنے لگے : اگر اس نے پردہ کیا تو امہات المومنین سے ہے، اگر پردہ نہ کیا تو لونڈی ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ فرمایا تو ؟ اپنے پیچھے سواری پر جگہ بنائی اور لوگوں سے پردہ کروایا۔
(ب) حضرت انس (رض) اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ تھا اور کہتے ہیں : انھوں نے حلوہ بھی بنایا۔ حضرت انس (رض) کی دوسری روایت میں اقط کی جگہ سویق یعنی ستو کے الفاظ آتے ہیں۔