hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14775

.

سنن البيهقي

14775
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۷۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَیْمَنَ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہِ فَطَارَتِ الْقُرْعَۃُ عَلَی عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَخَرَجَتَا جَمِیعًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا سَارَ بِاللَّیْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا یَتَحَدَّثُ مَعَہَا فَقَالَتْ حَفْصَۃُ لِعَائِشَۃَ : أَلاَ تَرْکَبِینَ اللَّیْلَۃَ بَعِیرِی وَأَرْکَبُ بَعِیرَکِ فَتَنْظُرِینَ وَأَنْظُرُ قَالَتْ : بَلَی فَرَکِبَتْ عَائِشَۃُ عَلَی بَعِیرِ حَفْصَۃَ وَرَکِبَتْ حَفْصَۃُ عَلَی بَعِیرِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی جَمَلِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَعَلَیْہِ حَفْصَۃُ فَسَلَّمَ وَسَارَ مَعَہَا حَتَّی نَزَلُوا فَافْتَقَدَتْہُ عَائِشَۃُ فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَیْہَا فِی الإِذْخِرِ وَتَقُولُ : یَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَیَّ عَقْرَبًا أَوْ حَیَّۃً تَلْدَغُنِی وَرَسُولُکَ لاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ أَقُولَ لَہُ شَیْئًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٧٦٩) قاسم بن محمد حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نکلتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک مرتبہ قرعہ حضرت عائشہ (رض) اور حفصہ کا نکلا تو وہ دونوں اکٹھی نکلیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کے وقت چلتے تو حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ باتیں کرتے رہتے۔ حفصہ (رض) حضرت عائشہ (رض) سے کہنے لگیں : کیا آج رات آپ میرے اونٹ پر سوار نہیں ہوتی اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ہوجاتی ہوں تو مجھے دیکھے گی میں تجھے دیکھوں گی، حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : کیوں نہیں تو حضرت عائشہ (رض) حفصہ (رض) کے اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ (رض) کے اونٹ کے پاس آئے، اس پر حفصہ (رض) تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام کہہ کر اس کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ انھوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ (رض) نے آپ کو گم پایا جب پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ (رض) نے اپنا پاؤں گھاس میں رکھ دیا اور کہنے لگیں ! اے میرے رب ! میرے اوپر کو بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے، تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات کہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔