(۱۴۷۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ حَدَّثَنِی أَبُو ہَاشِمٍ إِسْمَاعِیلُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیطِ بْنِ صَبْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنْتُ وَفْدَ بَنِی الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِی وَفْدِ بَنِی الْمُنْتَفِقِ فَأَتَیْنَاہُ فَلَمْ نُصَادِفْہُ وَصَادَفْنَا عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأُتِینَا بِقِنَاعٍ فِیہِ تَمْرٌ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ وَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِیرَۃٍ فَصُنِعَتْ ثُمَّ أَکَلْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ہَلْ أَکَلْتُمْ شَیْئًا ہَلْ أُمِرَ لَکُمْ بِشَیْئٍ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ۔ فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَفَعَ الرَّاعِی غَنَمَہُ فَإِذَا بِسَخْلَۃٍ تَیْعَرُ فَقَالَ : ہِیہِ یَا فُلاَنُ مَا وَلَّدْتَ؟ ۔ قَالَ : بَہْمَۃً۔ قَالَ : فَاذْبَحْ لَنَا مَکَانَہَا شَاۃً ۔ ثُمَّ انْحَرَفَ إِلَیَّ وَقَالَ : لاَ تَحْسِبَنَّ وَلَمْ یَقُلْ لاَ تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِکَ ذَبَحْنَاہَا لَنَا غَنَمٌ مِائَۃٌ لاَ نُرِیدُ أَنْ تَزِیدَ فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِی بَہْمَۃً ذَبَحْنَا مَکَانَہَا شَاۃً۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِیَ امْرَأَۃً فِی لِسَانِہَا شَیْء ٌ یَعْنِی الْبَذَائَ قَالَ : طَلِّقْہَا ۔ قُلْتُ : إِنَّ لِی مَنْہَا وَلَدًا وَلَہَا صُحْبَۃٌ قَالَ : فَمُرْہَا یَقُولُ عِظْہَا فَإِنْ یَکُ فِیہَا خَیْرًا فَسَتَقْبَلْ وَلاَ تَضْرِبَنَّ ظَعِینَتَکَ ضَرْبَکَ أُمَیَّتَکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنِی عَنِ الْوُضُوئِ ؟ قَالَ : أَسْبِغِ الْوُضُوئَ وَخَلِّلْ بَیْنَ الأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِی الاِسْتِنْشَاقِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ صَائِمًا ۔ [صحیح]
(١٤٧٧١) عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد میں تھا۔ ہم ان کے پاس آئے تو ہماری ملاقات نہ ہوسکی اور ہمارا سامنا حضرت عائشہ (رض) سے ہوا۔ ہمارے سامنے پلیٹ میں کھجوریں لائی گئیں اور ہمارے لیے انھوں نے خزیدہ بنوانے کا حکم دیا (خزیدہ وہ سالن جو قیمہ اور آٹا ملا کر بنایا جاتا ہے) کھانا بنایا گیا، ہم نے کھانا کھایا تو اتنی دیر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی آگئے اور پوچھا : کیا تم نے کچھ کھایا ہے ؟ یا تمہارے لیے کچھ بنانے کا حکم دیا گیا ہے ؟ ہم نے کہا : جی ہاں۔ اتنی دیر میں چرواہا بھی بکریاں لے کر آگیا تو اچانک ایک بکری نے جنم دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو نے کیا بنوایا ہے اس نے کہا : بچہ، آپ نے فرمایا : اس کی جگہ ایک بکری ذبح کردیجیے، پھر ہمارے پاس آئے اور فرمایا : تم یہ گمان نہ کرو اور یہ نہ کہنا کہ ہم نے تمہاری وجہ سے ذبح کیا ہے ہمارے پاس سو بکریاں ہیں تو ہم نہیں جانتے کہ وہ سو سے بڑھ جائے اور جب کوئی بکری بچہ جنم دیتی ہے تو ہم اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کردیتے ہیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری عورت بدزبان ہے ؟ آپ نے فرمایا : طلاق دے دو میں نے کہا : اس سے میری اولاد ہے اور اس سے محبت بھی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو واضح نصیحت کر، اگر اس میں بھلائی ہو تو قبول کرلے گی اور اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں خبر دیجیے۔ آپ نے فرمایا : وضو مکمل کرو، انگلیوں کا خلال کرو اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو سوائے روزے کی حالت کے۔