(۱۴۹۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ الأَخْرَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ؟ قَالَ : لاَ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَہَا کَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بُنْدَارٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی کِلاَہُمَا عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْقَطَّانِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَطَلَّقَ رُکَانَۃُ امْرَأَتَہُ الْبَتَّۃَ وَہِیَ تَحْتَمِلُ وَاحِدَۃً وَتَحْتَمِلُ الثَّلاَثَ فَسَأَلَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ نِیَّتِہِ وَأَحْلَفَہُ عَلَیْہَا وَلَمْ نَعْلَمْہُ نَہَی أَنْ یُطَلِّقَ الْبَتَّۃَ یُرِیدُ بِہَا ثَلاَثًا وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٩٣٧) قاسم حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس عورت سے کسی دوسرے شخص نے نکاح کرنے کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس سے مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا ہے۔
نوٹ : امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تو اس سے ایک یا تین طلاقوں کا احتمال ہوسکتا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نیت کے بارے میں سوال کیا اور قسم لی اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین طلاقوں سے منع کیا ہو اور حضرت عبدالرحمن نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔