hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14989

.

سنن البيهقي

14989
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۹۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنْ کَانَ مَعْنَی قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ الثَّلاَثَ کَانَتْ تُحْسَبُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَاحِدَۃً یَعْنِی أَنَّہُ بِأَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَالَّذِی یُشْبِہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یَکُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ عَلِمَ أَنْ کَانَ شَیْئًا فَنُسِخَ فَإِنْ قِیلَ فَمَا دَلَّ عَلَی مَا وَصَفْتَ قِیلَ لاَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَرْوِی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا ثُمَّ یُخَالِفُہُ بِشَیْئٍ لَمْ یَعْلَمْہُ کَانَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیہِ خِلاَفٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ رِوَایَۃُ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ مَضَتْ فِی النَّسْخِ وَفِیہَا تَأْکِیدٌ لِصِحَّۃِ ہَذَا التَّأْوِیلِ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنْ قِیلَ فَلَعَلَّ ہَذَا شَیْء ٌ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ فَقَالَ فِیہِ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَوْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قِیلَ : قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یُخَالِفُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ وَبَیْعِ الدِّینَارِ بِالدِّینَارَیْنِ وَفِی بَیْعِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ وَغَیْرِہِ فَکَیْفَ یُوَافِقُہُ فِی شَیْئٍ یُرْوَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیہِ خِلاَفٌ قَالَ : فَإِنْ قِیلَ وَقَدْ ذَکَرَ عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قِیلَ اللَّہُ أَعْلَمُ وَجَوَابُہُ حِینَ اسْتُفْتِیَ بِخِلاَفِ ذَلِکَ کَمَا وَصَفْتُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَعَلَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَجَابَ عَلَی أَنَّ الثَّلاَثَ وَالْوَاحِدَۃَ سَوَاء ٌ وَإِذَا جَعَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَدَدَ الطَّلاَقِ عَلَی الزَّوْجِ وَأَنْ یُطَلِّقَ مَتَی شَائَ فَسَوَاء ٌ الثَّلاَثُ وَالْوَاحِدَۃُ وَأَکْثَرُ مِنَ الثَّلاَثِ فِی أَنْ یَقْضِیَ بِطَلاَقِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ عَبَّرَ بِالطَّلاَقِ الثَّلاَثِ عَنْ طَلاَقِ الْبَتَّۃِ فَقَدْ ذَہَبَ إِلَیْہِ بَعْضُہُمْ۔ [صحیح۔ قال الشافعی فی الام]
(١٤٩٨٣) امام شافعی فرماتے ہیں : اگر عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کا یہ معنیٰ ہو کہ رسول اللہ کے دور میں تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا تھا یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے تو ممکن ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) کو علم ہو کہ کسی چیز نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چیز حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرمائیں، پھر اس کی مخالفت ایسی چیز کے ذریعے کریں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جانتے نہ ہوں اور جس میں اختلاف تھا۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : عکرمہ ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ اس میں نسخ ہوچکا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے حضرت عمر (رض) کے قول کی موافقت کی ہے تو ہم کہہ دیں گے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے نکاحِ متعہ اور ایک دینار کے بدلے دو دینار کی بیع، اور امہات الاولاد کی بیع میں حضرت عمر (رض) سے اختلاف کیا ہے، وہ ایسی چیز میں کیسے موافقت کریں گے، جس میں اختلاف تھا ؟ اگر کہا جائے کہ حضرت ابوبکر اور عمر (رض) کے ابتدائی دو سال کا تذکرہ کیا ہے، کہتے ہیں : اللہ خوب جانتا ہے جب ان سے فتویٰ اس کے خلاف پوچھا گیا، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : شاید کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ تین ایک کے برابر ہیں۔ جب اللہ رب العزت نے طلاق کی تعداد خاوند کے ذمہ چھوڑی ہے کہ وہ جب چاہے طلاق دے ایک اور تین برابر ہیں اور تین سے زیادہ کا بھی۔ شیخ فرماتے ہیں : طلاق ثلثہ سے ان کی مراد طلاق بتہ ہو۔ بعض لوگوں کا یہ مذہب ہے۔