(۱۵۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ زِیَادٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غُرَابٍ أَنَّ عَمَّۃً لَہُ حَدَّثَتْہُ: أَنَّہَا سَأَلَتْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: إِحْدَانَا تَحِیضُ وَلَیْسَ لَہَا وَلِزَوْجِہَا إِلاَّ فِرَاشٌ وَاحِدٌ۔ قَالَتْ: أُخْبِرُکِ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ فَمَضَی إِلَی مَسْجِدِہِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ تَعْنِی مَسْجِدَ بَیْتِہِ - فَلَمْ یَنْصَرِفْ حَتَّی غَلَبَتْنِی عَیْنِی وَأَوْجَعَہُ الْبَرْدُ فَقَالَ: ((ادْنِی مِنِّی))۔ فَقُلْتُ: إِنِّی حَائِضٌ۔ قَالَ: ((وَإِنِ، اکْشِفِی عَنْ فَخِذَیْکِ۔ فَکَشَفْتُ فَخِذَیَّ فَوَضَعَ خَدَّہُ وَصَدْرَہُ عَلَی فَخِذَیَّ))، وَحَنَیْتُ عَلَیْہِ حَتَّی دَفِئَ وَنَامَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۲۷۰]
(١٥٠٥) عمارہ بن غراب کی پھوپھی نے سیدہ عائشہ (رض) سے عرض کیا : جب ہم میں سے کوئی حیض والی ہوتی تھی تو اس کا اور اس کے خاوندکا ایک ہی بستر ہوتا تھا۔ انھوں نے فرمایا : میں تجھے بتاتی ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے، پھر مسجد کی طرف چلے گئے۔ امام ابو داؤد (رح) کہتے ہیں۔ یعنی اپنے گھر کی مسجد میں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھرے نہیں، یہاں تک کہ میرے آنکھیں غالب آگئیں (یعنی مجھے نیند آگئی) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سردی محسوس ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے قریب ہو جاؤ ! میں نے کہا : میں حائضہ ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنی رانوں کو ڈھانپ لو، میں نے اپنی رانوں کو ڈھانپ لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا رخسار اور سینہ میرے ران پر رکھا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکی، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گرمی حاصل کی اور سو گئے۔ “