hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15086

.

سنن البيهقي

15086
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۰۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : زَعَمَ عَطَاء ٌ أَنَّہُ سَمِعَ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یُخْبِرُ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُخْبِرُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَمْکُثُ عِنْدَ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَیَشْرَبُ عِنْدَہَا عَسَلاً فَتَوَاصَیْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ أَیَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَیْہَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَلْتَقُلْ إِنِّی أَجِدُ مِنْکَ رِیحَ مَغَافِیرَ أَکَلْتَ مَغَافِیرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاہُمَا فَقَالَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَیْنَبَ وَلَنْ أَعُودَ لَہُ ۔ فَنَزَلَتْ {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ} إِلَی {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّہِ} لِعَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِہِ حَدِیثًا } لِقَوْلِہِ : بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ کِلاَہُمَا عَنْ حَجَّاجٍ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی عَنْ ہِشَامِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَلَنْ أَعُودَ لَہُ وَقَدْ حَلَفْتُ وَلاَ تُخْبِرِی بِذَلِکَ أَحَدًا ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ قَالَہُ مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ : وَاللَّہِ لاَ أَشْرَبُہُ ۔ فَأَخْبَرَ أَنَّہُ حَلَفَ عَلَیْہِ فَأَشْبَہَ أَنْ یَکُونَ وُجُوبُ الْکَفَّارَۃِ تَعَلَّقَ بِالْیَمِینِ لاَ بِالتَّحْرِیمِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٠٨٠) عبید بن عمیر حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زینب بنت جحش کے پاس شہد پینے کے لیے رک جاتے تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ جس کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، وہ کہہ دے : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے مغافیر کھائی ہے کہ آپ سے اس کی بو آرہی ہے ؟ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہی کہ اس کی بو آرہی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے، لیکن آئندہ نہ پیوں گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : { لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } [التحریم ١] { اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ } [التحریم ٤] کیوں آپ حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اور حضرت عائشہ، حفصہ کے لیے فرمایا : { وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا } [التحریم ٣] اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بعض بیویوں کو پوشیدہ بات کہی کہ میں نے تو شہد پیا تھا۔
(ب) ابن جریج عطاء سے اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ہرگز دوبارہ نہ پیوں گا۔ میں قسم اٹھاتا ہوں، لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔
(ج) ابن عباس (رض) اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہ پیوں گا۔ اس نے خبر دی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم اٹھائی تھی تو کفارہ کا وجوب قسم کے متعلق ہے نہ کہ تحریم کے متعلق۔