hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15087

.

سنن البيهقي

15087
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۰۸۱) وَقَدْ رَوَاہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ یُخَالِفُہُ فِی بَعْضِ الأَلْفَاظِ وَلَمْ یَذْکُرْ نُزُولَ الآیَۃِ فِیہِ وَہُوَ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو فِی فَوَائِدِ الأَصَمِّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ خَلِیلٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَائَ وَکَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَی نِسَائِہِ فَیَدْنُو مِنْ إِحْدَاہُنَّ فَدَخَلَ عَلَی حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَاحْتَبَسَ عِنْدَہَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ یَحْتَبِسُ فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ فَقِیلَ لِی : أَہْدَتْ لَہَا امْرَأَۃٌ مِنْ قَوْمِہَا عُکَّۃَ عَسَلٍ فَسَقَتْہُ مِنْہَا شَرْبَۃً فَقُلْتُ : إِنَّا وَاللَّہِ لَنَحْتَالَنَّ لَہُ فَقُلْتُ لِسَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ : إِنَّہُ سَیَدْنُو مِنْکِ إِذَا دَخَلَ عَلَیْکِ فَقُولِی لَہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَکَلْتَ مَغَافِیرَ فَإِنَّہُ سَیَقُولُ لَکِ : لاَ۔ فَقُولِی لَہُ : مَا ہَذِہِ الرِّیحُ الَّتِی أَجِدُ مِنْکَ فَإِنَّہُ سَیَقُولُ لَکِ : سَقَتْنِی حَفْصَۃُ شَرْبَۃً مِنْ عَسَلٍ۔ فَقُولِی لَہُ : جَرَسَتْ نَحْلُہُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِکَ وَقُولِی یَا صَفِیَّۃُ ذَاکَ قَالَ تَقُولُ سَوْدَۃُ : وَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُنَادِیَہُ بِمَا أَمَرْتِنِی فَرَقًا مِنْکِ فَلَمَّا دَنَا مِنْہَا قَالَتْ لَہُ سَوْدَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَکَلْتَ مَغَافِیرَ قَالَ : لاَ ۔ قَالَتْ : فَمَا ہَذِہِ الرِّیحُ الَّتِی أَجِدُ مِنْکَ قَالَ : سَقَتْنِی حَفْصَۃُ شَرْبَۃَ عَسَلٍ ۔ فَقَالَتْ : جَرَسَتْ نَحْلُہُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَارَ إِلَیَّ قُلْتُ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ فَلَمَّا دَارَ إِلَی صَفِیَّۃَ قَالَتْ مِثْلَ ذَلِکَ تَعْنِی فَلَمَّا دَارَ إِلَی حَفْصَۃَ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ أَسْقِیکَ مِنْہُ قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ۔ قَالَ تَقُولُ لَہَا سَوْدَۃُ : سُبْحَانَ اللَّہِ وَاللَّہِ لَقَدْ حَرَمْنَاہُ۔ قُلْتُ لَہَا : اسْکُتِی۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْمَغْرَائِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ۔
(١٥٠٨١) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہد اور میٹھی چیز کو پسند فرماتے تھے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تو حفصہ بنت عمر (رض) کے پاس زیادہ دیر رکتے جتنا دوسری بیویوں کے پاس نہ رکتے تھے۔ میں نے غیرت کھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا، مجھے کہا گیا کہ کسی نے انھیں شہد کا تحفہ دیا ہے وہ شہد پلا دیتی ہے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم ضرور آپ کو شہد پلایا کریں تو میں نے سودہ بنت زمعہ سے کہا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے قریب آئیں اور گھر میں داخل ہوں تو آپ سے کہہ دینا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ نے مغافیر بوٹی کھائی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے فرمائیں گے : نہیں تو پھر کہہ دینا : یہ جو بو آپ سے آرہی ہے یہ کیسی ہے ؟ آپ فرمائیں گے کہ حفصہ نے شہد پلایا ہے تو پھر کہہ دینا کہ شہد کی مکھی نے عرفط بوٹی کا رس چوسا ہوگا۔ عنقریب میں بھی یہ بات کہوں گی۔ اے صفیہ ! آپ نے بھی یہ بات کہنی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سودہ نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازے پر ہی کھڑے تھے کہ میں نے آپ کو آواز دینے کا ارادہ کیا، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سودہ کے قریب ہوئے تو سودہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے مغافیر کھائی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں تو فرماتی ہیں : یہ بو کیسی ہے جو میں آپ سے محسوس کر رہی ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا۔ فرمانے لگی : شاید مکھی نے عرفط بوٹی کو چوسا ہو۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوم کر میرے پاس آئے تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔ جب حضرت صفیہ کے پاس گئے تو انھوں نے بھی اسی طرح کہہ دیا۔ جب حضرت حفصہ (رض) کے پاس گئے تو کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ شہد نہ پئیں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سودہ نے اس سے کہا : سبحان اللہ ! اللہ کی قسم ! ہم نے اس کو حرام کردیا ہے، میں نے اس سے کہا : خاموش رہو۔ [صحیح۔ متفق علیہ)