(۱۵۰۸۷) وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ مَعَ مَا مَضَی مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا قَالَ : عُقْدَۃٌ کَانَتْ بِیَدِہِ أَرْسَلَہا جَمِیعًا وَإِذَا کَانَ تَتْرَی فَلَیْسَ بِشَیْئٍ ۔
قَالَ سُفْیَانُ تَتْرَی یَعْنِی أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ فَإِنَّہَا تَبِینُ بِالأُولَی وَالثِّنْتَانِ لَیْسَتَا بِشَیْئٍ ۔
وَحَکَی الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ اخْتِلاَفِ الْعِرَاقِیَّیْنِ أَظُنُّہُ عَنْ أَبِی یُوسُفَ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لاِمْرَأَتِہِ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا : أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ فَالتَّطْلِیقَۃُ الأُولَی وَلَمْ تَقَعْ عَلَیْہَا الْبَاقِیَتَانِ ہَذَا قَوْلُ أَبِی حَنِیفَۃَ بَلَغَنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَزِیدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَإِبْرَاہِیمَ بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
(١٥٠٨٧) شعبی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : جس نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ فرماتے ہیں : یہ اس کا اختیار تھا جو اس نے استعمال کرلیا اور جب اس کے بعد طلاق دیتا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
سفیان کہتے ہیں : تتری یعنی تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو پہلی طلاق جدا کردینے والی ہے اور باقی دو کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امام شافعی (رح) ابو یوسف (رح) سے ایسے شخص کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو دخول سے پہلے اپنی بیوی کو کہہ دیتا ہے : تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تو پہلی طلاق واقع ہوجاتی ہے اور باقی دو طلاقیں واقع نہیں ہوتیں۔ یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے۔