(۱۵۱۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- سَمِعَہَا تَقُولُ : جَائَ تِ امْرَأَۃُ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنِّی کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَۃَ فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلاَقِی فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیرِ وَإِنَّمَا مَعَہُ مِثْلُ ہُدْبَۃِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَالَ : أَتُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِی إِلَی رِفَاعَۃَ لاَ حَتَّی تَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ وَیَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ ۔ قَالَتْ : وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَخَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْبَابِ یَنْتَظِرُ أَنْ یُؤْذَنَ لَہُ فَنَادَی : یَا أَبَا بَکْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ مَا تَجْہَرُ بِہِ ہَذِہِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃَ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ إِلَی قَوْلِہِ : لاَ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ وَتَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ ۔ لَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥١٩٠) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : میں رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کرلیا، اس کے پاس کپڑے کا پھندا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور فرمایا : کیا تو رفاعہ کے پاس واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ نہیں ہوسکتا جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو۔ ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر تھے، انھوں نے ابوبکر (رض) کو آواز دی : اے ابوبکر (رض) ! کیا سن رہے ہو ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کس بات کا اظہار کر رہی ہے۔
(ب) زعفرانی کی روایت میں حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ رفاعہ قرظی کی عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، پھر اس نے حدیث کو اس کی مثل ذکر کیا ہے، اس قول تک ” یہاں تک کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے جماع کرلے۔ “