hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15197

.

سنن البيهقي

15197
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیَّ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَبَتَّ طَلاَقَہَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیرِ فَجَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ إِنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَۃَ فَطَلَّقَہَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیرِ وَإِنَّہُ وَاللَّہِ مَا مَعَہُ إِلاَّ مِثْلُ ہَذِہِ الْہُدْبَۃِ وَأَخَذَتْ بِہُدْبَۃٍ مِنْ جِلْبَابِہَا قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ضَاحِکًا وَقَالَ : لَعَلَّکِ تُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِی إِلَی رِفَاعَۃَ لاَ حَتَّی تَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ وَیَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ ۔ قَالَتْ : وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَخَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَۃِ لَمْ یُؤْذَنْ لَہُ فَطَفِقَ خَالِدٌ یُنَادِی أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَلاَ تَزْجُرُ ہَذِہِ عَمَّا تَجْہَرُ بِہِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٥١٩١) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس عورت نے بعد میں عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کرلی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگی کہ وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اس کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کی۔ اس کے پاس کپڑے کی جھالر ہے اور اس نے اپنی چادر کی جھالر کو پکڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمایا : شاید کہ تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے، یہ ممکن نہیں جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لے۔ کہتی ہیں کہ ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص حجرہ کے دروازہ پر بیٹھے تھے، ان کو اجازت نہ ملی تھی تو خالد نے ابوبکر (رض) کو آواز دی آپ اس عورت کو ڈانٹتے نہیں ہیں یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کس چیز کا اظہار کر رہی ہے۔