(۱۵۵۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ قَالاَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : طُلِّقَتْ خَالَتِی ثَلاَثًا فَخَرَجَتْ تَجُدُّ نَخْلاً فَلَقِیَہَا رَجُلٌ فَنَہَاہَا فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : اخْرُجِی فَجُدِّی فَلَعَلَّکِ أَنْ تَصَدَّقِی أَوْ تَفْعَلِی مَعْرُوفًا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بنِ حَاتِمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : نَخْلُ الأَنْصَارِ قَرِیبٌ مِنْ مَنَازِلِہِمْ وَالْجَدَادُ إِنَّمَا یَکُونُ نَہَارًا۔ [صحیح۔ ۱۴۸۳]
(١٥٥١١) جابر (رض) سے روایت ہے کہ خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں۔ وہ نکلی، کھجوریں کاٹ رہی تھی۔ اس کو ایک شخص ملا، اس نے اس کو منع کیا ۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی ۔ اس نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تو نکل جا اور کھجوریں کاٹ، شاید تو صدقہ کرے یانی کی کرے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : انصار کی کجھوریں ان کے گھروں کے قریب تھیں اور وہ صبح کو کھجوریں کاٹتے تھے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔