(۱۵۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِیرَۃَ بْنَ الضَّحَّاکِ یَقُولُ أَخْبَرَتْنِی أُمُّ حَکِیمٍ بِنْتُ أَسِیدٍ عَنْ أُمِّہَا : أَنَّ زَوْجَہَا تُوُفِّیَ وَکَانَتْ تَشْتَکِی عَیْنَہَا فَتَکْتَحِلُ بِکُحْلِ الْجِلاَئِ قَالَ أَحْمَدُ الصَّوَابُ بِکُحْلِ الحلاء فَأَرْسَلَتْ مَوْلاَۃً لَہَا إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فَسَأَلَتْہَا عَنْ کُحْلِ الْجِلاَئِ فَقَالَتْ : لاَ تَکْتَحِلُ بِہِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْہُ یَشْتَدُّ عَلَیْکِ فَتَکْتَحِلِینَ بِاللَّیْلِ وَتَمْسَحِینَہُ بِالنَّہَارِ۔ ثُمَّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِکَ أُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ تُوُفِّیَ أَبُو سَلَمَۃَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَی عَیْنَیَّ صَبِرًا فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أُمَّ سَلَمَۃَ؟ ۔ فَقُلْتُ : إِنَّمَا ہُوَ الصَّبِرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَیْسَ فِیہِ طِیبٌ۔ قَالَ : إِنَّہُ یَشُبُّ الْوَجْہَ فَلاَ تَجْعَلِیہِ إِلاَّ بِاللَّیْلِ وَتَنْزَعِینَہُ بِالنَّہَارِ وَلاَ تَمْتَشِطِی بِالطِّیبِ وَلاَ بِالْحِنَّائِ فَإِنَّہُ خِضَابٌ۔ قَالَتْ قُلْتُ : بِأَیِّ شَیْئٍ أَمْتَشِطُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِینَ بِہِ رَأْسَکِ ۔ [ضعیف]
(١٥٥٣٨) مغیرہ بن ضحاک فرماتے ہیں کہ مجھے ام حکیم بنت اسید نے اپنی والدہ سے خبر دی کہ اس کا خاوند فوت ہوگیا اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں ۔ اس نے کحل جلاء کے ساتھ سرمہ لگایا۔ احمد کہتے ہیں : درست کہ کحل جلاء ہے۔ اس نے اپنی لونڈی کو ام سلمہ کی طرف بھیجا ۔ اس نے کحل جلاء کے بارے میں اس سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگیں : وہ یہ سرمہ نہ لگائے مگر کسی ایسے معاملے میں جس میں نہایت ضروری ہو۔ تو رات کو سرمہ لگا اور دن کو اس کو صاف کر دے پھر فرمایا : میرے پاس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جس وقت ابو سلمہ (رض) فوت ہوئے اور میں نے اپنی آنکھوں پر صبر (بوٹی) لگائی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو صبر (بوٹی) ہے۔ اس میں خوشبو نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ چہرے کو چمکاتی ہے ، تو اس کو رات کو لگا اور دن کو اتار دے اور تو کنگھی خوشبو کے ساتھ نہ کر اور نہ ہی مہندی لگا ۔ یہ خضاب ہے۔ فرماتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیری کے ساتھ کنگھی کر اور اس کے ساتھ اپنے سر کو ڈھانپ لے۔