(۱۵۵۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ طُلَیْحَۃَ کَانَتْ تَحْتَ رُشَیْدٍ الثَّقَفِیِّ فَطَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ فَنَکَحَتْ فِی عِدَّتِہَا فَضَرَبَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَضَرَبَ زَوْجَہَا بِالْمِخْفَقَۃِ ضَرَبَاتٍ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَکَحَتْ فِی عِدَّتِہَا فَإِنْ کَانَ زَوْجُہَا الَّذِی تَزَوَّجَ بِہَا لَمْ یَدْخُلْ بِہَا فُرِّقَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِیَّۃَ عِدَّتِہَا مِنْ زَوْجِہَا الأَوَّلِ وَکَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ فَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِہَا فُرِّقَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِیَّۃَ عِدَّتِہَا مِنْ زَوْجِہَا الأَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الآخَرِ ثُمَّ لَمْ یَنْکِحْہَا أَبَدًا۔
قَالَ سَعِیدٌ : وَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْہَا۔ [حسن لغیرہ]
(١٥٥٣٩) سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ طلیحہ رشید ثقفی کے نکاح میں تھی ۔ اس نے اس کو طلاق بتۃ دی ۔ اس نے اپنی عدت میں نکاح کرلیا۔ اس کو عمر بن خطاب (رض) نے مارا اور اس کی بیوی کو کوڑے کے ساتھ مارا اور اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی ڈال دی۔ پھر عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جو بھی عورت اپنی عدت میں نکاح کرے تو اگر اس کا خاوند جس نے اس کے ساتھ شادی کی ہے اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا تو ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی عدت گزارے اور وہ منگنی کا پیغام دینے والوں کے لیے خاطبہ ہے۔ اگر اس کے ساتھ اس نے دخول کیا تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت گزارے گی۔ پھر دوسرے خاوند کی عدت گزارے گی، پھر وہ اس سے کبھی بھی نکاح نہیں کرسکے سکتی۔
سعید فرماتے ہیں : اس کے لیے اس کا مہر ہوگا کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔