(۱۵۵۸۶) وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : عِدَّۃُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ قَالَ وَکِیعٌ : مَعْنَاہُ إِذَا مَاتَ عَنْہَا زَوْجُہَا بَعْدَ سَیِّدِہَا۔
قَالَ الشَّیْخُ رِوَایَاتُ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ غَیْرُ قَوِیَّۃٍ یَقُولُون ہِیَ مُحَیْفَۃٌ۔ [ضعیف]
(١٥٥٨٦) خلاس بن عمروعلی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ام ولد کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
امام وکیع (رح) فرماتے ہیں : اس کا معنی یہ ہے کہ جب اس کا خاوند بھی اس کے مالک کی وفات کے بعد مرجائے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں : خلاس کی روایات علی (رض) سے محدثین کے نزدیک غیر قوی ہیں، وہ فرماتے ہیں : یہ نہایت کمزور ہے۔