(۱۵۶۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الرَّضَاعِ فَقَالَ : لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّ اللَّہَ قَدْ حَرَّمَ الأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ فَقُلْتُ : إِنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ لاَ تُحَرِّمُ الرَّضْعَۃُ وَلاَ الرَّضْعَتَانِ وَلاَ الْمَصَّۃُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ۔ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَضَاء ُ اللَّہِ خَیْرٌ مِنْ قَضَائِکَ وَقَضَائِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ مَعَکَ۔ [صحیح]
(١٥٦٤٢) عمرو بن دینار (رض) سے روایت ہے کہ ابن عمر رضاعت کے معاملے میں کسی چیز کے بارے میں سوال کیے گئے۔ آپ (رض) نے کہا : میں نہیں جانتا مگر بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعی یعنی دودھ شریک بہن کو حرام کیا ہے۔ میں نے کہا بیشک امیر المؤمنین ابن زبیر فرماتے ہیں نہیں حرام کرتی ایک رضاعت اور نہ ہی دو رضاعتیں اور نہ ایک گھونٹ اور نہ دو گھونٹ رضاعت کو ثابت کرتے ہیں۔ ابن عمر (رض) نے کہا : اللہ کا فیصلہ تیرے فیصلے سے بہتر ہے اور امیر المؤمنین کا فیصلہ تیرے ساتھ ہے۔