(۱۵۷۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ہُوَ ابْنُ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ قَالَ : قَدِمْنَا الرَّبَذَۃَ فَأَتَیْنَا أَبَا ذَرٍّ فإِذَا عَلَیْہِ حُلَّۃٌ وَإِذَا عَلَی غُلاَمِہِ أُخْرَی قَالَ فَقُلْنَا لَوْ کَسَوْتَ غُلاَمَکَ غَیْرَ ہَذَا وَجَمَعْتَ بَیْنَہُمَا فَکَانَتْ حُلَّۃً قَالَ فَقَالَ سَأُحَدِّثُکُمْ عَنْ ہَذَا إِنِّی سَابَبْتُ رَجُلاً وَکَانَتْ أُمُّہُ أَعْجَمِیَّۃً فَنِلْتُ مِنْہَا فَأَتَی رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- فَشَکَانِی إِلَیْہِ فَقَالَ لِی : أَسَابَبْتَ فُلاَنًا؟ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَہَلْ ذَکَرْتَ أُمَّہُ؟ ۔ فَقُلْتُ : مَنْ یُسَابِبِ الرِّجَالَ ذُکِرَ أَبُوہُ وَأُمُّہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : إِنَّکَ امْرُؤٌ فِیکَ جَاہِلِیَّۃٌ ۔ قَالَ قُلْتُ عَلَی سَاعَتِی مِنَ الْکِبَرِ قَالَ : نَعَمْ إِنَّمَا ہُمْ إِخْوَانُکُمْ جَعَلَہُمُ اللَّہُ تَحْتَ أَیْدِیکُمْ فَمَنْ کَانَ أَخُوہُ تَحْتَ یَدِہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِنْ طَعَامِہِ وَلْیُلْبِسْہُ مِنْ لِبَاسِہِ وَلاَ یُکَلِّفُہُ مَا یَغْلِبُہُ فَإِنْ کَلَّفَہُ مَا یَغْلِبُہُ فَلْیُعِنْہُ عَلَیْہِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ وأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٧٧٦) اعمش معرور سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ربذہ میں آئے تو دیکھا کہ حضرت ابو ذر (رض) نے ایک حلہ پہنا ہوا ہے اور ان کے غلام پر بھی ویسا ہی حلہ ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ غلام سے کپڑا لے کر اپنا ایک اچھا سا حلہ بنا لیتے غلام کو اور کپڑا لے دیتے تو ابو ذر فرمانے لگے : میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دے دی کہ اس کی ماں عجمی ہے تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میری شکایت کردی، میں بھی آگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا کہ کیا واقعی تو نے اسے گالی دی ہے اور اس کی ماں کا ذکر کیا ہے ؟ تو میں نے جواب دیا : جی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اور گالی میں تو ماں یا باپ کا ذکر آ ہی جاتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو ذر ابھی تجھ میں جاہلیت باقی ہے اور فرمایا : یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنادیا ہے۔ لہٰذا ان سے اچھا برتاؤ کرو۔ جو خود کھاؤ، پیو، پہنو وہ انھیں بھی کھلاؤ، پلاؤ اور پہناؤ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر بوجھ نہ ڈالو اور کوئی ایسا کام دو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو تو ان کی مدد کیا کرو۔
صحیح مسلم میں یہ روایت احمد بن یونس کے طرق سے اور بخاری میں اعمش کے ایک دوسرے طریق سے منقول ہے۔