hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15933

.

سنن البيهقي

15933
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۹۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ أَنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ حَدَّثَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِہِ وَقَدْ جَرَحَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ فَأَرَادَ أَنْ یُقِیدَہُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ مَا یَنْبَغِی ہَذَا۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِذًا نُضْعِفَ عَلَیْہِ الْعَقْلَ فَأَضْعَفَہُ۔ وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یُحَدِّثُ النَّاسَ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ قُتِلَ بِالشَّامِ عَمْدًا وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذْ ذَاکَ بِالشَّامِ فَلَمَّا بَلَغَہُ ذَلِکَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ وَقَعْتُمْ بِأَہْلِ الذِّمَّۃِ لأَقْتُلَنَّہُ بِہِ۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ ذَلِکَ لَکَ۔ فَصَلَّی ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَیْدَۃَ فَقَالَ لِمَ زَعَمْتَ لاَ أَقْتُلُہُ بِہِ۔ فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرَأَیْتَ لَوْ قَتَلَ عَبْدًا لَہُ أَکُنْتَ قَاتِلَہُ بِہِ فَصَمَتَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَضَی عَلَیْہِ بِأَلْفِ دِینَارٍ مُغَلِّظًا عَلَیْہِ۔ [ضعیف۔ مرسل عن عمر]
(١٥٩٢٧) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص لایا گیا ، جس نے ایک ذمی کو زخمی کردیا تھا تو آپ نے اسے قصاص لینا چاہا تو مسلمان کہنے لگے : ایسا نہیں ہوسکتا تو عمر فرمانے لگے : پھر ہم دیت بڑھا کرلیتے ہیں تو دیت بڑھا کر دے دی گئی اور اسماعیل بن ابی حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے سنا، آپ بہت سے لوگوں سے روایت کرتے تھے کہ ایک آدمی اہل الذمہ میں سے شام میں قتل ہوگیا، عمر (رض) بھی اس وقت شام میں تھے۔ آپکو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : اب اسے بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا تو ابو عبیدہ بن جراح فرمانے لگے : ایسا نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر نے نماز پڑھی اور پھر ابو عبیدہ کو بلایا اور پوچھا کہ میں اس کو کیوں قتل نہ کروں ؟ تو ابو عبیدہ فرمانے لگے کہ اگر مقتول غلام ہوتا تو کیا آپ پھر بھی اسے قتل کرتے ؟ تو حضرت عمر خاموش ہوگئے اور ہزار دینار دے کر فیصلہ کردیا۔