hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15934

.

سنن البيهقي

15934
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۹۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْحِیرَۃِ فَکَتَبَ فِیہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یُدْفَعَ إِلَی أَوْلِیَائِ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَاء ُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاء ُوا عَفَوْا فَدُفِعَ الرَّجُلُ إِلَی وَلِیِّ الْمَقْتُولِ إِلَی رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ حُنَیْنٌ مِنْ أَہْلِ الْحِیرَۃِ فَقَتَلَہُ فَکَتَبَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِکَ إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَمْ یُقْتَلْ فَلاَ تَقْتُلُوہُ۔ فَرَأَوْا أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرَادَ أَنْ یُرْضِیَہُمْ مِنَ الدِّیَۃِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : الَّذِی رَجَعَ إِلَیْہِ أَوْلَی بِہِ وَلَعَلَّہُ أَرَادَ أَنْ یُخِیفَہُ بِالْقَتْلِ وَلاَ یَقْتُلُہُ قَالَ الَّذِی تَکَلَّمَ مَعَہُ فَقَدْ رُوِّیتُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ فِی مُسْلِمٍ قَتَلَ نَصْرَانِیًّا إِنْ کَانَ الْقَاتِلُ قَتَّالاً فَاقْتُلُوہُ وَإِنْ کَانَ غَیْرَ قَتَّالٍ فَذَرُوہُ وَلاَ تَقْتُلُوہُ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَدْ رُوِّیْنَاہُ فَاتَّبِعْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَمَا قَالَ فَأَنْتَ لاَ تَتَّبِعُہُ فِیمَا قَالَ قَالَ فَثَبَتَ عِنْدَکُمْ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ ہَذَا شَیْئٌ قَالَ الشَّافِعِیُّ قُلْنَا وَلاَ حَرْفٌ وَہَذِہِ أَحَادِیثُ مُنْقَطِعَاتٌ أَوْ ضِعَافٌ أَوْ تَجْمَعُ الاِنْقِطَاعَ وَالضَّعْفَ جَمِیعًا۔[ضعیف]
(١٥٩٢٨) حماد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ بکر بن وائل قبیلہ کے ایک شخص نے اہل حیرہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تو حضرت عمر نے فیصلہ فرمایا کہ قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے چاہے وہ اسے قتل کردیں یا معاف کردیں تو اس شخص کو ان کے ورثاء میں سے حنین نامی شخص کو دے دیا گیا۔ اس نے اسے قتل کردیا تو بعد میں حضرت عمر نے ان کو لکھا کہ اگر اس کو ابھی قتل نہ کیا ہو تو اسے قتل نہ کرنا۔ حضرت عمر کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو دیت پر راضی کرلیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان کی طرف جو لوٹایا تھا یہ زیادہ اولیٰ ہے اور شاید ان کو قتل سے ڈرانا مقصود ہو قتل مقصود نہ ہو اور اس نے کہا کہ جس نے اس کے ساتھ کلام کی کہ تمہیں عمرو بن دینار سے بیان کیا گیا کہ حضرت عمر نے ایک مسلمان جس نے عیسائی کو قتل کیا تھا اس کے باریلکھا تھا کہ اگر قاتل عادی مجرم ہے تو قتل کر دو ، ورنہ چھوڑ دو قتل نہ کرو۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ہمیں یہ روایت تو کیا گیا ہے۔ لیکن جو عمر نے کہا : اس کی اتباع کر اس کی اتباع نہ کر کہ انھوں نے کیوں کہا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ کیا حضرت عمر سے کوئی چیز اس بارے میں ثابت بھی ہے۔ امام شافعی (رح) فرمانے لگے : ایک حرف بھی نہیں اور جو احادیث ہیں وہ یا تو منقطع ہیں یا ضعیف یا منقطع اور ضعیف دونوں ہیں۔