(۱۶۰۵۳) وَالَّذِی قَالَہُ حَبِیبٌ أَوِ ابْنُ أَشْوَعَ بَیِّنٌ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْفْامِیُّ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ ہُوَ ابْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ وَائِلٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ قَالَ : بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فِی عُنُقِہِ نِسْعَۃٌ فَلَمَّا انْتَہَی إِلَیْہِ قَالَ إِنَّ ہَذَا وَأَخِی کَانَا فِی جُبٍّ یَحْفِرَانِہَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِہِ رَأْسَ أَخِی فَقَتَلَہُ قَالَ : اعْفُ عَنْہُ ۔ فَأَبَی قَالَ : فَخُذِ الدِّیَۃَ ۔ قَالَ مَا أُرِیدُ الدِّیَۃَ قَالَ فَأَعَادَ الْحَدِیثَ فَقَالَ : اعْفُ عَنْہُ ۔ فَأَبَی قَالَ خُذِ الدِّیَۃَ فَأَبَی فَأَعَادَ الْحَدِیثَ فَقَالَ : اعْفُ عَنْہُ ۔ فَأَبَی فَقَالَ : خُذِ الدِّیَۃَ ۔ فَأَبَی فَلَمَّا أَبَی إِلاَّ أَنْ یَقْتُلَ قَالَ : أَمَا إِنَّکَ إِنْ قَتَلْتَہُ کُنْتَ مِثْلَہُ ۔ قَالَ : فَأَصْنَعُ مَاذَا؟ قَالَ : تَعْفُو عَنْہُ ۔ قَالَ : فَأَنَا رَأَیْتُہُ یَجُرُّ نِسْعَتَہُ حَتَّی خَفِیَ عَلَیْنَا۔ [صحیح]
(١٦٠٥٣) علقمہ بن وائل فرماتے ہیں کہ انھیں ان کے والد نے خبر دی کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک شخص کو لایا گیا۔ اس کے گلے میں تسمہ باندھا ہوا تھا جب وہ آپ کے پاس آگئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ اور میرا بھائی ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھایا اور میرے بھائی کے سر پر مارا اور اسے قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، انھوں نے انکار کردیا۔ آپ نے فرمایا : دیت لے لو۔ کہنے لگا : مجھے دیت بھی نہیں چاہیے۔ پھر آپ نے معافی اور دیت کا کہا تو اس نے انکار کردیا تو آپ نے فرمایا : اگر تو نے اسے قتل کردیا تو تو بھی اسی جیسا ہوجائے گا تو وہ کہنے لگا : پھر میں کیا کروں ؟ فرمایا : معاف کردے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اسے اس کے تسمے سے پکڑ کر واپس لے جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔