(۱۶۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ الْبَیْرُوتِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِی السَّفَرِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ دَقَّ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَاسْتَعْدَی مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ لِمُعَاوِیَۃَ إِنَّ ہَذَا دَقَّ سِنِّی فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ کَلاَّ إِنَّا سَنُرْضِیکَ قَالَ وَأَلَحَّ عَلَی مُعَاوِیَۃَ وَأَکَبَّ عَلَیْہِ حَتَّی أَبْرَمَہُ فَقَالَ : شَأْنُکَ بِصَاحِبِکَ۔ قَالَ وَأَبُو الدَّرْدَائِ جَالِسٌ عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یُصَابُ بِشَیْئٍ فِی جَسَدِہِ فَیَتَصَدَّقُ بِہِ إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْہُ بِہِ خَطِیئَۃً ۔
فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ لأَبِی الدَّرْدَائِ : أَنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ : نَعَم سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی۔ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ : فَإِنِّی أَدَعُہَا لِلَّہِ۔ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : لاَ جَرَمَ وَاللَّہِ لاَ تَخِیبُ وَأَمَرَ لَہُ بِمَالٍ۔ [حسن]
(١٦٠٥٥) ابو سفر فرماتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے ایک انصاری کے دانت توڑ دیے۔ وہ معاویہ کے پاس آگئے۔ انصاری کہنے لگا : اس نے میرے دانت توڑ دیے تو معایہ فرمانے لگے : ہرگز نہیں۔ آپ کو راضی کریں گے، ہم تو معاویہ (رض) نے اس شخص کو قابو کر کے دبوچا اور فرمایا : اب لے لو بدلا تو ابو الدرداء جو حضرت معاویہ ہی کے پاس بیٹھے تھے، فرمانے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان کو بھی کوئی جسمانیتکلیف پہنچتی ہے وہ اسے صدمہ کرتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کے درجات بلند فرماتے ہیں اور گناہ مٹا دیتے ہیں۔
وہ انصاری حضرت ابو دردائ (رض) سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : ہاں میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے تو وہ انصاری کہنے لگا : میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ حضرت معاویہ فرمانے لگے : کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔