(۱۷۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْفَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَاتِمٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَۃَ بْنِ عَلْقَمَۃَ فِیمَا کَتَبَ إِلَیَّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ
حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَقْتَ الصَّلَوَاتِ فَصَلَّی الظُّہْرَ حِینَ فَائَ الْفَیْئُ ، وَصَلَّی الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، وَصَلَّی الْمَغْرِبَ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّی الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّی الصُّبْحَ حِینَ بَدَأَ أَوَّلُ الْفَجْرِ ، ثُمَّ صَلَّی الظُّہْرَ الْیَوْمَ الثَّانِیَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، وَصَلَّی الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مَثْلَیْہِ ، وَصَلَّی الْمَغْرِبَ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّی الْعِشَائَ فِی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، وَصَلَّی الصُّبْحَ بَعْدَ مَا أَسْفَرَ ، ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّ جِبْرِیلَ أَمَّنِی لِیُعَلِّمَکُمْ أَنَّ مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ وَقْتٌ))۔ [حسن لغیرہٖ]
(١٧٢١) سیدنا عمرو بن شعیب اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں کے متعلق سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سایہ لوٹ آیا اور عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہوگیا اور عشا کی نماز پڑھائی جس وقت سرخی غائب ہوگئی اور صبح کی نماز پڑھائی جس وقت پہلی فجر ظاہر ہوئی، پھر دوسرے دن ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا اور عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہوگیا اور عشا کی نماز ایک تہائی رات میں پڑھائی اور صبح کی نماز روشنی کے بعد پڑھائی، پھر فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے میری امامت کرائی تاکہ وہ مجھے سکھائے کہ ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔