(۱۷۶۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِنَّ قُرَیْشًا ہَمُّوا بِشَأْنِ الْمَخْزُومِیَّۃِ الَّتِی سَرَقَتْ فَقَالُوا : مَنْ یُکَلِّمُ فِیہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالُوا : مَنْ یَجْتَرِئُ عَلَیْہِ إِلاَّ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَکَلَّمَہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ : یَا أُسَامَۃُ تَشْفَعُ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّہِ؟ ۔ ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- خَطِیبًا فَقَالَ : إِنَّمَا ہَلَکَ الَّذِینَ قَبْلَکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِیہِمُ الشَّرِیفُ تَرَکُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیہِمُ الضَّعِیفُ أَقَامُوا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَایْمُ اللَّہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ۔ [صحیح]
(١٧٦١٦) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قریش نے ارادہ کیا کہ مخزومیہ عورت جس نے چوری کرلی تھی کے بارے میں کوئی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرے تو فیصلہ ہوا کہ اتنی ہمت صرف اسامہ بن زید ہی کرسکتے ہیں، وہ محبوب رسول ہیں تو حضرت اسامہ نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا : ” اے اسامہ ! کیا اللہ کی حدود میں تو سفارش کررہا ہے ؟ “ پھر آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان میں کوئی امیر چوری کرتا توا سے چھوڑ دیتے اور غریب پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔