hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17623

.

سنن البيهقي

17623
Sunan Al Bayhaqi
(۱۷۶۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِیِّ : أَنَّہُمْ جَلَسُوا لاِبْنِ عُمَرَ قَالَ فَمَا رَأَیْتُہُ أَرَادَ الْجُلُوسَ مَعَنَا حَتَّی قُلْنَا ہَلُمَّ إِلَی الْمَجْلِسِ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَرَأَیْتُہُ تَذَمَّمَ قَالَ فَجَلَسَ فَسَکَتْنَا فَلَمْ یَتَکَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ فَقَالَ مَا لَکُمْ لاَ تَنْطِقُونَ أَلاَ تَقُولُونَ سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ فَإِنَّ الْوَاحِدَۃَ بِعَشْرٍ وَالْعَشْرُ بِمَائَۃٍ وَالْمِائَۃُ بِأَلْفٍ وَمَا زِدْتُمْ زَادَکُمُ اللَّہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حَدِّ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللَّہَ فِی أَمْرِہِ وَمَنْ مَاتَ وعَلَیْہِ دَیْنٌ فَلَیْسَ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمِ وَلَکِنَّہَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّیِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِی بَاطِلٍ وَہُوَ یَعْلَمُہُ لَمْ یَزَلْ فِی سَخَطِ اللَّہِ حَتَّی یَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِی مُؤْمِنٍ مَا لَیْسَ فِیہِ أَسْکَنَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ رَدْغَۃَ خَبَالٍ حَتَّی یَخْرُجَ مِمَّا قَالَ۔ [صحیح]
(١٧٦١٧) یحییٰ بن راشد دمشقی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہمارے پاس آ کر بیٹھے۔ ہم خاموش تھے تو آپ (رض) نے فرمایا : خاموش کیوں ہو ؟ بولتے کیوں نہیں ! تم سبحان اللہ وبحمدہ کیوں نہیں کہتے ۔ یہ ایک دس اور دس سو اور سو ہزار کے برابر ہے اور جتنا زیادہ پڑھو گے اللہ زیادہ کرتے جائیں گے۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” جس کی شفاعت حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ میں حائل ہوگئی۔ اس نے اپنے معاملے میں اللہ سے ضد کی ہے اور جو مرگیا اور اس پر قرض ہے تو وہ نیکیوں اور برائیوں کی صورت میں ادا ہوگا اور جو کسی باطل کے لیے لڑتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے۔ جب تک کہ اس سے پیچھے نہ ہٹ جائے اور جو کسی مومن کے لیے ناحق بات کہتا ہے تو اللہ اسے جہنم کے کیچڑ میں ڈالیں گے۔ یہاں تک کہ وہ نکل جائے گا جو اس نے کہا۔