(۱۸۰۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سِمَاکُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ لاَ یُقِیمُ حَتَّی یَرَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَإِذَا رَآہُ أَقَامَ حِینَ یَرَاہُ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی خَیْثَمَۃَ۔ [حسن۔ أخرجہ مسلم ۶۰۶]
(١٨٠٥) سیدنا جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا بلال (رض) اذان دیتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا، پھر کھڑے نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ دیکھ لیتے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لیتے۔ تو اقامت کہتے۔