(١٨٢٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَأُخِذَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تِلْکَ وَسُبِیَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَتِ النَّاقَۃُ أُصِیبَتْ قَبْلَہَا فَکَانَتْ تَکُونُ فِیہِمْ وَکَانُوا یَجِیئُونَ بِالنَّعَمِ إِلَیْہِمْ قَالَ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ کُلَّمَا أَتَتْ بَعِیرًا رَغَا حَتَّی أَتَتْ تِلْکَ النَّاقَۃَ فَشَنَقَتْہَا فَلَمْ تَرْغُ وَہِیَ نَاقَۃٌ ہَدِرَۃٌ فَقَعْدَتْ فِی عَجُزِہَا ثُمَّ صَاحَتْ بِہَا فَانْطَلَقَتْ فَطُلِبَتْ مِنْ لَیْلَتِہَا فَلَمْ یُقْدَرْ عَلَیْہَا فَجَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَرَفُوا النَّاقَۃَ فَقَالُوا نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ إِنَّہَا قَدْ جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا قَالُوا لاَ وَاللَّہِ لاَ تَنْحَرِیہَا حَتَّی نُؤْذِنَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَتَوْہُ فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ فُلاَنَۃَ قَدْ جَائَ تْ عَلَی نَاقَتِکَ وَإِنَّہَا جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: سُبْحَانَ اللَّہِ بِئْسَمَا جَزَتْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ ۔ أَوْ قَالَ : ابْنُ آدَمَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤١]
(١٨٢٤٣) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا لیا۔ پھر انھوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی پکڑ لی گئی اور ایک انصاری عورت قیدی بنا لی گئی۔ اونٹنی اس سے پہلے پکڑ لی گئی تھی۔ وہ ان میں موجود تھی اور وہ اپنے جانور لے کر ان کے پاس آئے تھے۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن وہ زنجیروں سے کھل گئی۔ وہ اونٹوں کے باڑے میں آئی۔ وہ جس اونٹ کے پاس بھی آئی اس نے آواز نکالی۔ جب وہ عورت اس اونٹنی کے پاس آئی اس اونٹنی کو لگام دی تو اس نے آواز نہ نکالی۔ بلبلانے والی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس پر سوار ہوگئی اور اسے چلایا۔ اس عورت کو تلاش کیا گیا لیکن وہ اس پر قادر نہ ہو سکے۔ اس عورت نے نذر مان لی۔ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ جب وہ عورت آئی تو صحابہ نے اونٹنی پہچان لی کہ یہ اونٹنی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے۔ اس عورت نے کہا کہ میں نے تو نذر مانی ہے۔ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ صحابہ نے کہا : اس اونٹنی کو ذبح نہ کرنا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ سے اجازت لے لیں۔ صحابہ نے آ کر رسول اللہ کو خبر دی کہ فلاں عورت آپ کی اونٹنی پر آئی ہے اور اس نے نذر مانی ہے اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس کو ذبح کر دے گی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک ہے برا بدلہ ہے اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور نہ اس نذر کو پورا کیا جائے جس کا بندہ مالک نہیں رہا یا فرمایا ابن آدم مالک نہیں رہا۔