(۱۸۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ یَجْتَمِعُونَ فَیَتَحَیَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَیْسَ یُنَادِی بِہَا أَحَدٌ ، فَتَکَلَّمُوا یَوْمًا فِی ذَلِکَ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: نَتَّخِذُ نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَی۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُودِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً یُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَۃِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۹]
(١٨٣١) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت مسلمان مدینہ میں آئے تو وہ جمع ہوتے اور نمازوں کا انتظار کرتے اور کوئی بھی اعلان کرنے والا نہیں تھا۔ انھوں نے ایک دن اس کے متعلق بات کی۔ بعض نے کہا : ہم نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا : بلکہ یہودیوں کی طرح ایک سینگ۔ سیدنا عمر (رض) نے کہا : کیوں نہ تم کسی آدمی کو بھیجو جو نماز کا اعلان کرے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے بلال ! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کا اعلان کرو۔ “