(۱۸۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَکَرُوا أَنْ یَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِشَیْئٍ فَیَعْرِفُونَہُ ، فَذَکَرُوا أَنْ یَضْرِبُوا نَاقُوسًا أَوْ یُنَوِّرُوا نَارًا، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
(١٨٣٢) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے مشورہ کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے اوقات کو جانیں اور پہچانیں۔ بعض نے ذکر کیا کہ ایک ناقوس بجائیں یا آگ روشن کریں۔ سیدنا بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان جفت کہ کہیں اور اگلی سطر میں لے جائیں اقامت ایک مرتبہ کہے۔