(١٨٤٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَبَا عُمَارَۃَ أَکُنْتُمْ فَرَرْتُمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ فَقَالَ : لاَ وَاللَّہِ مَا وَلَّی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَکِنَّہُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِہِ وَأَخِفَّاؤُہُمْ حُسَّرًا لَیْسَ عَلَیْہِمْ سِلاَحٌ أَوْ کَثِیرُ سِلاَحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاۃً لاَ یَکَادُ یَسْقُطُ لَہُمْ سَہْمٌ جَمْعُ ہَوَازِنَ وَبَنِی نَصْرٍ فَرَشَقُوہُمْ رَشْقًا لاَ یَکَادُونَ یُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا ہُنَاکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَغْلَتِہِ الْبَیْضَائِ وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَقُودُ بِہِ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ :
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
ثُمَّ صَفَّہُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زُہَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح ]
(١٨٤٧٧) ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے کہا : اے ابو عمارہ ! کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں بھاگے۔ لیکن نوجوان جن کے پاس اسلحہ کی کمی یا زیادتی تھی۔ ان کو تیر انداز لوگ ملے۔ انھوں نے ان پر تیر برسائے۔ جن کا نشانہ خطا نہیں تھا اور انھوں نے ان کے ھوازن اور بنو نضر کے جمع شدہ حصے ختم ہونے کے قریب نہ تھے۔ پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجے ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سفید خچر پر سوار تھے۔ ابو سفیان بن حاث بن عبد المطلب اس کو چلا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اتر پڑے اور فرمایا : میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔