(١٨٥٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَیْضِ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جَابِرٍ الرُّعَیْنِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَیَّعَ جَیْشًا فَمَشَی مَعَہُمْ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اغْبَرَّتْ أَقْدَامُنَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقِیلَ لَہُ وَکَیْفَ اغْبَرَّتْ وَإِنَّمَا شَیَّعْنَاہُمْ فَقَالَ : إِنَّا جَہَّزْنَاہُمْ وَشَیَّعْنَاہُمْ وَدَعَوْنَا لَہُمْ ۔ [ضعیف ]
(١٨٥٧٩) سعید بن جابر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) لشکر کو الوداع کرتے ہوئے ان کے ساتھ چلتے اور فرماتے کہ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمارے پاؤں کو اپنے راستے میں خاک آلود کردیا۔ ان سے کہا گیا کہ کیسے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہوئے حالانکہ ہم نے انھیں الوداع کیا ہے۔ فرماتے : ہم نے انھیں سازوسامان مہیا کیا۔ الوداع کہا اور ان کے لیے دعا کی۔