(١٨٦٧٩) قَالَ وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّہُمْ کَانُوا ثَلاَثَمِائَۃٍ فَضَرَبَ عَلَیْہِمُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَئِذٍ ثَلاَثَمِائَۃِ دِینَارٍ کُلَّ سَنَۃٍ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : ثُمَّ صَالَحَ أَہْلَ نَجْرَانَ عَلَی حُلَلٍ یُؤَدُّونَہَا إِلَیْہِ فَدَلَّ صُلْحُہُ إِیَّاہُمْ عَلَی غَیْرِ الدَّنَانِیرِ عَلَی أَنَّہُ یَجُوزُ مَا صُولِحُوا عَلَیْہِ ۔ [ضعیف جدا ]
(١٨٦٧٩) اسحاق بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو افراد تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر سال میں تین سو دینار مقرر فرمائے۔ شافعی (رض) فرماتے ہیں : اہلِ نجران نے زیورات پر صلح کی جو وہ ادا کرتے تھے تو جس چیز پر وہ صلح کرلیں جائز ہے، اگرچہ دینار نہ بھی ہوں۔