(١٨٦٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا یُونُسُ یَعْنِی ابْنَ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْہَمْدَانِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : صَالَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَ نَجْرَانَ عَلَی أَلْفَیْ حُلَّۃٍ النِّصْفُ فِی صَفَرَ وَالنِّصْفُ فِی رَجَبٍ یُؤَدُّونَہَا إِلَی الْمُسْلِمِینَ وَعَارِیَّۃِ ثَلاَثِینَ دِرْعًا وَثَلاَثِینَ فَرَسًا وَثَلاَثِینَ بَعِیرًا وَثَلاَثِینَ مِنْ کُلِّ صِنْفٍ مِنْ أَصْنَافِ السِّلاَحِ یَغْزُونَ بِہَا وَالْمُسْلِمُونَ ضَامِنُونَ لَہَا حَتَّی یَرُدُّوہَا عَلَیْہِمْ إِنْ کَانَ بِالْیَمَنِ کَیْدٌ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٦٤٤]
(١٨٦٨٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران سے دو ہزار سوٹوں کے عوض صلح کی۔ آدھے صفر اور آدھے رجب میں وہ مسلمانوں کو ادا کریں گے اور اہل عاریہ سے تیس زرعیں، تیس گھوڑے، تیس اونٹ، ہر قسم کا اسلحہجو تیس جنگ میں استعمال ہوتا ہے اور مسلمان ان کے ضامن ہیں یہاں تک وہ ان کو واپس کردیں۔ اگرچہ وہ یمن میں ہی کیوں نہ ہو۔