(۱۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُمُومَۃٌ لِی مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالُوا: اہْتَمَّ النَّبِیُّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ: وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ مَرِیضًا یَوْمَئِذٍ ، وَالأَنْصَارُ تَزْعُمُ أَنَّہُ لَوْ لَمْ یَکُنْ مَرِیضًا لَجَعَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُؤَذِّنًا۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَلَوْ صَحَّ حَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ وَصَحَّ حَدِیثُ الصُّدَائِیِّ کَانَ الْحُکْمُ لِحَدِیثِ الصُّدَائِیِّ لِکَوْنِہِ بَعْدَ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
(١٨٧٤) سیدنا ابو عمیر بن انس فرماتے ہیں کہ مجھ کو میرے پھوپھا جان جو انصار ی تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی تھے نے بیان فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہتمام کیا۔۔۔ اس میں ہے کہ عبداللہ بن زید ان دنوں میں بیمار تھے اور انصار گمان کرتے تھے کہ وہ مریض نہیں تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مؤذن بنادیا۔