(١٨٧٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْمُرَّارُ بْنُ حَمُّوَیْہِ الْہَمَذَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْکِنَانِیُّ قَالَ مُوسَی وَہُوَ أَبُو غَسَّانَ الْکِنَانِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا فُدِعْتُ بِخَیْبَرَ قَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطِیبًا فِی النَّاسِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَلَ یَہُودَ خَیْبَرَ عَلَی أَمْوَالِہَا وَقَالَ : نُقِرُّکُمْ مَا أَقَرَّکُمُ اللَّہُ ۔ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَی مَالِہِ ہُنَاکَ فَعُدِیَ عَلَیْہِ فِی اللَّیْلِ فَفُدِعَتْ یَدَاہُ وَلَیْسَ لَنَا عَدُوٌّ ہُنَاکَ غَیْرُہُمْ وَہُمْ تُہْمَتُنَا وَقَدْ رَأَیْتُ إِجْلاَئَ ہُمْ فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَی ذَلِکَ أَتَاہُ أَحَدُ بَنِی أَبِی الْحُقَیْقِ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ تُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَی الأَمْوَالِ وَشَرَطَ ذَلِکَ لَنَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَظَنَنْتَ أَنِّی نَسِیتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : کَیْفَ بِکَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَیْبَرَ تَعْدُو بِکَ قَلُوصُکَ لَیْلَۃً بَعْدَ لَیْلَۃٍ ۔ فَأَجْلاَہُمْ وَأَعْطَاہُمْ قِیمَۃَ مَا لَہُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالاً وَإِبِلاً وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَیْرِ ذَلِکَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ وَہُو مُرَّارُ بْنُ حَمُّوَیْہِ ۔ [صحیح ]
(١٨٧٤٥) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خیبر میں میرا جوڑ ٹوٹ گیا تو حضرت عمر (رض) نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو ان کے مالوں پر عامل بنایا تھا اور فرمایا : میں نے تمہیں برقرار رکھا جب تک اللہ نے تمہیں برقرار رکھا۔ جب عبداللہ بن عمر (رض) اپنے مال لیکر نکلے تو ان پر رات کے وقت زیادتی کی گئی۔ جس کی بنا کی پر ان کا جوڑ ٹوٹ گیا ان کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن بھی نہ تھا، وہ ہمارے ملزم تھے۔ میں نے ان کو جلا وطن ہوتے ہوئے دیکھا جب وہ اس بات پر جمع ہوگئے تو بنو ابو الحقیق کا ایک فرد آیا۔ اس نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ نے ہمیں جلا وطن کردیا ہے۔ حالانکہ محمد نے ہمیں اپنے مالوں پر عامل بنایا تھا اور ہمیں یہاں برقرار رکھا ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بھول گیا ہوں۔ تمہاری حالت کیا ہوگی، جب تمہیں خیبر سے نکالا جائے گا اور تیری جوان اونٹنی تجھے یکے بعد دیگرے کئی راتیں چلے گی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ان کو جلا وطن کیا اور ان کے پھلوں کی قیمت کے بدلے مال، اونٹ، سامان پالان، رسیاں وغیرہ دے دیں۔