(١٨٧٩١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ : الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ زَیْدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ الْہَوْزَنِیُّ قَالَ : لَقِیتُ بِلاَلاً مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ : یَا بِلاَلُ حَدِّثْنِی کَیْفَ کَانَتْ نَفَقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : فَإِذَا إِنْسَانٌ یَسْعَی یَدْعُو یَا بِلاَلُ أَجِبْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَانْطَلَقْتُ حَتَّی أَتَیْتُہُ فَإِذَا أَرْبَعُ رَکَائِبَ مُنَاخَاتٍ عَلَیْہِنَّ أَحْمَالُہُنَّ فَاسْتَأْذَنْتُ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَبْشِرْ فَقَدْ جَائَ کَ اللَّہُ بِقَضَائِکَ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَلَمْ تَرَ إِلَی الرَّکَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الأَرْبَعِ ۔ فَقُلْتُ : بَلَی فَقَالَ : إِنَّ لَکَ رِقَابَہُنَّ وَمَا عَلَیْہِنَّ فَإِنَّ عَلَیْہِنَّ کِسْوَۃً وَطَعَامًا أَہْدَاہُنَّ إِلَیَّ عَظِیمُ فَدَکَ فَاقْبِضْہُنَّ وَاقْضِ دَیْنَکَ ۔ فَفَعَلْتُ ۔ [صحیح۔ اخرجہ السجستانی ٣٠٥٥]
(١٨٧٩١) عبداللہ ھوزنی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مؤذن بلال (رض) کو ملا، پوچھا : اے بلال (رض) ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خرچے کے بارے میں بتائیے۔ اس نے حدیث ذکر کی۔ جس میں تھا کہ ایک انسان دوڑتا ہوا آیا اور کہا : اے بلال (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلاؤ، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، چار اونٹنیاں سامان سے لادی ہوئی تھیں۔ میں نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خوش ہو جاؤ ۔ اللہ نے آپ کے قرض کی ادائیگی کا بند و بست کردیا ہے۔ پھر فرمایا : کیا آپ ان چار سامان سے لدی ہوئی اونٹنیوں کی طرف نہیں دیکھتے۔ اس نے کہا : کیوں نہیں، آپ نے فرمایا : یہ سب تیرے لیے ہیں اور ان پر کپڑے اور کھانا ہے جو فدک کے امیر نے مجھے تحفہ میں دیا ہے۔ یہ لے جا کر اپنا قرض ادا کرو، کہتے ہیں : میں نے ایسا ہی کیا۔