(١٨٨٧٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ صَیْدِ الْکَلْبِ فَقَالَ : مَا أَمْسَکَ عَلَیْکَ وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ فَکُلْہُ فَإِنَّ أَخْذَہُ ذَکَاتُہُ وَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَہُ کَلْبًا غَیْرَہُ فَخَشِیتَ أَنْ یَکُونَ أَخَذَہُ مَعَہُ وَقَدْ قَتَلَہُ فَلاَ تَأْکُلْہُ فَإِنَّکَ إِنَّمَا ذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تَذْکُرْہُ عَلَی غَیْرِہِ ۔ وَسَأَلْتُہُ عَنْ صَیْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ : مَا أَصَبْتَ بِحَدِّہِ فَکُلْہُ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِہِ فَہُوَ وَقِیذٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٨٧٤) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کتے کے شکار کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : جو کتا شکار آپ کے لیے روکے کھائے نہیں اس شکار کو آپ کھا لیں کیونکہ اس کا پکڑنا ہی ذبح تصور کیا جائے گا۔ اگر اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور یہ ڈر ہو کہ ممکن ہے کہ شکار کو اس نے پکڑا یا قتل کیا ہے تو نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا دوسرے پر نہیں۔ راوی کہتے ہیں : میں نے چوڑائی کی جانب سے لگنے والے تیر کی وجہ سے شکار ہونے والے جانور کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : جس شکار کو تیر دھار کے بل لگے کھالو اور جس کو آپ تیر چوڑائی کے بل ماریں تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہوگا۔