(١٨٩٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَقْبَلْتُ مِنَ الْبَحْرَیْنِ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِالرَّبَذَۃِ سَأَلَنِی نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ وَہُمْ مُحْرِمُونَ عَنْ صَیْدٍ وَجَدُوہُ عَلَی الْمَائِ طَافٍ فَسَأَلُونِی عَنِ اشْتِرَائِہِ وَأَکْلِہِ فَأَمَرْتُہُمْ أَنْ یَشْتَرُوہُ وَیَأْکُلُوہُ وَہُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَکَأَنَّہُ وَقَعَ فِی قَلْبِی شَکٌّ مِمَّا أَمَرْتُہُمْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : وَمَا أَمَرْتَہُمْ بِہِ ؟ قَالَ قُلْتُ : أَمَرْتُہُمْ أَنْ یَشْتَرُوہُ وَیَأْکُلُوہُ قَالَ : لَوْ أَمَرْتَہُمْ بِغَیْرِ ذَلِکَ لَفَعَلْتُ أَیْ کَأَنَّہُ یَتَوَعَّدُہُ ۔ [صحیح ]
(١٨٩٨٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بحرین آیا تو ربذہ نامی جگہ پر عراق کے محرم لوگوں نے پانی پر تیر آنے والے شکار کے بارے میں مجھ سے پوچھا، وہ اس کے خریدنے اور کھانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو میں نے حالت احرام میں ان کو یہ شکار خرید کر کھانے کی اجازت دے دی۔ پھر میں مدینہ آیا تو اس مسئلہ کے بارے میں میرے دل میں شک تھا جو میں نے ان کو حکم دیا تو میں نے حضرت عمر (رض) کے سامنے تذکرہ کیا۔ انھوں نے پوچھا : آپ نے اس کے بارے میں ان کو کیا حکم دیا ہے ؟ ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے انھیں خرید کر کھانے کی اجازت دی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر تو اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا تو میں یہ کرتا گویا کہ اس کو دھمکی دے رہے تھے۔