(١٩٠٧١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مُزَیْنَۃَ : أَنَّہُمْ کَانُوا مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَبْلَ الأَضْحَی بِیَوْمِ أَوْ یَوْمَیْنِ فَکَانُوا یُعْطُونَ الشَّاتَیْنِ بِالثَّنِیَّۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الْجَذَعَۃُ تَجْزِی مِمَّا تَجْزِی مِنْہُ الثَّنِیَّۃُ ۔ [حسن ]
(١٩٠٧١) عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک فرد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے۔ قربانی سے ایک یا دو دن پہلے انھیں دو مسنہ بکریاں دی جاتی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جذعہ یعنی بھیڑ کا مسنہ جانور کی جگہ کفایت کرجاتا ہے۔